یا رب اثری دعای مارا

نورالدین محمد ظہوری شیزی

(م ۱۰۲۵ھ)
یا رب اثری دعای مارا

صبری دلِ مبتلای مارا
(پرور دگار میری دعا میں اثر دے اور میرے دل مبتلا کو صبر عطا کر)
اندک رحمی ستمگراں را

اندک بختی وفای مارا
(ظالموں کو تھوڑا سا رحم اور میری وفا کو تھوڑی سی خوشی نصیبی بخش)
خوشحال وصال گو کہ دارد

در قہقہہ ہایہای مارا
(جو لوگ کامیابِ وصل ہیں ان سے کہہ دو کہ اپنے قہقہوں میں ہماری آہ و فغاں کو بھی شامل کرلیں)
در سینہ نفس نماند و ننواخت

دشنام کسی دعای مارا
(سینے میں سانس باقی نہیں مگر اب تک کسی (معشوق )کی دشنام نے ہماری دعا کو نہیں نوازا)
فریاد کہ خوش فرو گرفت است

بیگانگی آشنای مارا
(دہائی ہے کہ ہمارے آشنانے ہم سے بالکل بیگانگی اختیار کر لی)
جان فرش رہ خیال او باد

دانستہ رہ سرای مارا
(میری جان اس کے تصور کی راہ میں بچھ جائے تو اچھا کہ اس ( تصور ) نے میرے گھر کا راستہ تو جان لیا)
سرکوب نزاکت سمن کرد

خارِ رہِ عشق پای مارا
(راہِ عشق کے کانٹوں کی بدولت اب میرے پائوں چمیلی کی نزاکت کو بھی خاطر میں نہیں لاتے)
جان در رہِ عشق کن ظہوری

ضامن شدۂ بقای مارا
(اے ظہوری وہ جو ہماری بقا کا ضامن ہے ، ہمیں چاہئے کہ اس کے عشق کی راہ میں جان لٹا دیں)