یا رب مدینہ چھوڑ کے جایا نہ جائے گا

 

 

یا
رب مدینہ چھوڑ کے جایا نہ جائے گا
بارِ
اَلم مجھ سے اُٹھایا نہ جائے گا
خلدِ
بریں ہے اپنی جگہ خوب تر مگر
طیبہ
کی دل کشی کو بھلایا نہ جائے گا
جس
درپہ صبح و شام ملائک سلامی دیں
بندوں
سے اس کا اُٹھایا نہ جائے گا
توصیف
جس کی خود کرے قرآن میں خدا
رتبہ
ہے وہ نبی کا گھٹایا نہ جائے گا
افلاک
و عرش کے میرے وہ لامکاں گئے
اتنی
بلندی پر کوئی لایا نہ جائے گا
میزان
ہو عمل کا یا کوثر ہو، پل صراط
وہ
ہر جگہ ہیں کوئی لایا نہ جائے گا
اے
رحمت تمام ملے صدقۂ بتول
غیروں
کے در پہ ہم سے تو جایا نہ جائے گا
میدانِ
کربلا میں کہا اے یزیدیو
شبیر
کا یہ سر ہے جھکایا نہ جائے گا
اک
معجزہ نبی کا ہے احمد رضا مِرا
اے
نجدیو یہ نام مٹایا نہ جائے گا
تم
سا علیمیؔ نعت لکھے شاہ امین کی
رہنے
بھی دو ہے تم سے نبھایا نہ جائے گا
علیمیؔ
بستوی