یوں چھائوں میں جلتا رہوں کب تک مرے مولا سایہ ابھی پہنچا نہیں سب تک مرے مولا

مظفرحنفی

یوں چھائوں میں جلتا رہوں کب تک مرے مولا
سایہ ابھی پہنچا نہیں سب تک مرے مولا

پھر بھی مری قسمت کے ستارے رہیں بیدار
سوجائیں اگر دست طلب تک مرے مولا

چھوڑا تھا کنارا کہ ذرا شغل رہے گا
محصور ہوں گرداب میں اب تک مرے مولا

دن گرد اڑانے کے لئے تھا سو اڑالی
پھر آگیا ویرانۂ شب تک مرے مولا

منظور کہ قبضے میں رہے مملکتِ فن
تلوار پہ چلتا رہوں جب تک مرے مولا

کیا دیر ہے مجھ کو بھی اجازت ہو رجز کی
حرف آنے لگا نام و نسب تک مرے مولا

اک بار مظفر کو بھی توفیق عطا کر
مزدور بھی جاتے ہیں عرب تک مرے مولا