یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو

یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو
پڑھ کے نبیﷺؐ کی نعت لحد میں اُتار دو

دیکھا ابھی ابھی ہے نظر نے جمالِ یار
اۓ موت! مجھ کو تھوڑی سی مہلت اُدھار دو

سنتے ہیں جاں کنی کا لمحہ ہے بہت کٹھن
لے کر نبیﷺ کا نام یہ لمحہ گزار دو

میرے کریمﷺ میں تِرے در کا فقیر ہوں
اپنے کرم کی بھیک مجھے بار بار دو

گَر جیتنا ہے عشق میں لازم یہ شرط ہے
کھیلو اگر یہ بازی تو ہر چیز ہار دو

یہ جان بھی ظؔہوری نبیﷺ کے طفیل ہے
اِس جان کو حضورﷺ کا صدقہ اُتار دو
محمدعلی ظہوری