یہ تیری زمیں یہ تیرا آسماں ہے جدھر دیکھتا ہوں تو ہی ضوفشاں ہے

کمالؔ جعفری

یہ تیری زمیں یہ تیرا آسماں ہے
جدھر دیکھتا ہوں تو ہی ضوفشاں ہے
تو ہے بے نیاز اور بے عیب یارب
تری ذات کا کوئی ثانی کہاں ہے
فلک پر ہیں بکھرے ہوئے تیرے جلوے
کہ روشن تجھی سے یہ سارا جہاں ہے
تو جس کا نگہباں ہے کون و مکاں میں
اسے خوفِ طوفاں نہ خوفِ خزاں ہے
بیاباں گلستاں و کوہ و دمن میں
نہاں ہے تو ہی اور تو ہی عیاں ہے
ہو تیرے کرم کا ادا شکر کیسے
خطا کار ہوں پھر بھی تو مہرباں ہے
ہوں میں بے خبر سارے عالم سے یارب
مرے کان میں صرف تیری اذاں ہے
دکھادے محمدؐ کا شہر مدینہ
کہ حاصل وہاں زندگی کو اماں ہے
بفضلِ خدا زندگانی کی کشتی
کمالؔ آج طوفاں کی زد پر رواں ہے