یہ شاخ بھی تری، برگ و ثمر بھی تیرے یہ زندگی کے گھنیرے شجر بھی تیرے

فضا ابن فیضی ، مئو ناتھ بھنجن

یہ شاخ بھی تری، برگ و ثمر بھی تیرے
یہ زندگی کے گھنیرے شجر بھی تیرے
جزیرہ کیسا، سمندر کہاں کا، ساحل کیا
تمام سلسلۂ بحر و بر تیرے ہیں
ہو خوف کیوں مجھے دریا میں ڈوب جانے کا
یہ کشتیاں بھی ہیں تیری، بھنور بھی تیرے ہیں
تمام منظر و آئینہ، تیری ذات کا عکس
نظر بھی تیری ہے، صاحب نظر بھی تیرے ہیں
عصا و چشمۂ حیوان و قم باذن اللہ
ملائکہ بھی، مسیحؑ و خضرؑ بھی تیرے ہیں
جو بے نیاز ہے سجدوں سے وہ جبیں بھی تری
جو آستاں پہ جھکے ہیں وہ سر بھی تیرے ہیں
ترے جمال سے روشن افق افق ہے تیرا
یہ سب کواکب و شمس و قمر بھی تیرے ہیں
ورق ورق، یہ لہکتے چراغ بھی تیرے
یہ لفظ لفظ، دمکتے گہر بھی تیرے ہیں