یہ فلک تیرا زمیں تیری یہ رفعت تیری سارے ہی ارض و سما پر ہے حکومت تیری

فاروق عادل (لکھنؤ)

یہ فلک تیرا زمیں تیری یہ رفعت تیری
سارے ہی ارض و سما پر ہے حکومت تیری

حمد لکھنے کی عطا کر مجھے توفیق خدا
ساری مخلوق کیا کرتی ہے مدحت تیری

کس طرح میں کروں انعام و عطا تیرے بیاں
ہے بصارت بھی تری اور بصیرت تیری

تیری تسبیح تو کرتی ہے یہاں ہر مخلوق
ذرے ذرے سے نمایاں ہے حقیقت تیری

تیرے ہی نام کا کلمہ ہو زباں پہ ہردم
میرے اللہ جو ہوجائے عنایت تیری

میرے اللہ گناہوں سے بچالے مجھ کو
ہاں دلوں پر بھی تو چلتی ہے حکومت تیری

کیسا ایمان تھا اصحابؓ کا اللہ غنی
ہر نفس ان کی زبانوں پہ تھی وحدت تیری

ہیں کروڑوں ترے بندے ہیں زبانیں بھی جدا
سب کی سنتا ہے بیک وقت یہ قدرت تیری

اپنے فاروقؔ کو خطروں سے بچانا یارب!
ہر قدم پر اسے رہتی ہے ضرورت تیری