یہ چاند اسی کا ہے ، یہ ہالہ بھی اسی کا کرنوں کے یہ گچھے ، یہ اجالا بھی اسی کا

قاسم ندیم
یہ چاند اسی کا ہے ، یہ ہالہ بھی اسی کا
کرنوں کے یہ گچھے ، یہ اجالا بھی اسی کا
ساکت ہے تو ہر بوند میں دیکھی ہے روانی
لہروں میں ہے موجود اُچھالا بھی اسی کا
بہتے ہیں یہاں گنگ و جمن اس کے اشارے
صدیوں سے کھڑا ہے یہ ہمالہ بھی اسی کا
چٹیل سایہ میدان ہے اور خارِ مغیلاں
تا حدِ نظر پھیلا ہے لالہ بھی اسی کا
جو دھوپ کی شدت سے بچائے ہے سبھی کو
اشجار پہ سر سبز دو شالا بھی اسی کا
منزل پہ پہنچنے کی تمنا بھی وہی دے
پڑ جاتا ہے جو پائوں میں چھالا بھی اسی کا
انسان تو بے بس ہے دیتا ہے وہی سب
تکلیف اسی کی ہے ازالہ بھی اسی کا
یہ نظمِ جہاں کتنے قرینے کا ہے مظہر
ادنیٰ بھی اسی کا ہے تو اعلیٰ بھی اسی کا
ہر شئے پہ ہے قادر یہ شمس و قمر کیا
شب تاب اسی کا ہے اجالا بھی اسی کا
آنکھیں تو سمندر سے مشابہ ہیں یوں لیکن
ہر دل میں دہکتا ہے جوالا بھی اسی کا
افلاک ہوں کہ گردشِ دوراں کے ستارے
ملتا ہے ہر اک شئے کو سنبھالا بھی اسی کا
قاسم پہ ہیں لاکھوں یہاں احسان اسی کے
جینے کے لیے حاصل ہے نوالہ بھی اسی کا

Address: 307/B, Sunrise Building, Deonar Colony, Govandi, Mumbai 400043