یہ کائنات تھی اُجڑے درخت کے مانند برس گیا کوئی ساون کے بخت کے مانند

یہ کائنات تھی اُجڑے درخت کے مانند
برس گیا کوئی ساون کے بخت کے مانند

نفس نفس تھا کٹھن زندگی کی راہوں کو
قدم قدم کیا پھولوں کے تخت کے مانند

میں اس کی چھائوں میں محفوظ رہ گزر کی طرح
وہ ریگ زار میں تنہا درخت کے مانند

نگاہ اُس کی مسافت میں راہ بر جیسے
خیال اُس کامرے ساز و رخت کے مانند

اُسی ضیا سے منور ہوں آج تک ورنہ
میں ایک شب تھا شب تِیرہ بخت کے مانند
نعمان امام (ممبئی۔بھارت)