یہ کرم کیسا کرم ہے جو سدا کرتا ہے تو ہم نے جو مانگا نہیں ہے وہ عطا کرتا ہے تو

خادم رزمی (پاکستان)

یہ کرم کیسا کرم ہے جو سدا کرتا ہے تو
ہم نے جو مانگا نہیں ہے وہ عطا کرتا ہے تو
ڈھالتا ہے قربتوں کو دوریوں میں آپ ہی
اور پھر طے خود ہی سارا فاصلہ کرتا ہے تو
اوڑھنی دیتا ہے پہلے رنگ و بو کی پھول کی
اور پھر شبنم سے اس کو آئینہ کرتا ہے تو
کون خواہش ہے؟ ستم پیشہ بناتا ہے جسے
کون جذبہ ہے جسے حرفِ دعا کرتا ہے تو
پہلے دل کو گھائو دیتا ہے کسی کے ہجر میں
اور پھر اس زخم کو شب کا دیا کرتا ہے تو
رہبری کرتا ہے راتوں کو ستارہ روپ میں
جب مری دھرتی سے سورج کو جدا کرتا ہے تو