حواشی

حواشی

1 سلطان قطب الدین ایبک
سلطان شہاب الدین غوری کا ترکی غلام اور اس کی فوج کا سپہ سالار تھا ۔ جب سلطان
شہاب الدین نے دہلی فتح کی تو قطب الدین کو ہندوستان کی حکومت تفویض کی ۔ قطب الدین
نے ہندوستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور نہایت شجاعت کے ساتھ اطرافِ  ہند کو علم اسلام کے نیچے لایا جب سلطان محمد
غوری کا سنہ 1602 میں انتقال ہو گیا تو قطب الدین ہندوستان کا فرمانروا تسلیم کیا
گیا اس طرح اس خاندان کی حکومت کی بنیاد پڑی جو تاریخ میں خاندانِ  غلاماں کے نام سے مشہور ہے ۔
2 سلطان قطب الدین شجاع
بہادر اور فاتح ہونے کے ساتھ ہی اتنا رحم دل فیاض اور سخی تھا کی ہندوستان کے لوگ
اسے لَکھ داتا کہہ کر پکارتے تھے آج اس کی تربت ایسی جگہ ہے جسے کوئی جانتا بھی نہیں‌
۔ لاہور میں انارکلی بازار سے جو راستہ میو ہسپتال کو جاتا ہے اس پر ایک ہندو کے مکان
کی دیوار میں اس کی تربت ہے جہاں ایک پتھر پر کندہ ہے “” یہ ہے آخری
آرام گاہ سلطان قطب الدین ایبک کی جو چوگان کھیلتا ہوا گھوڑے سے گرا اور مر گیا
“” تاریخ وفات سنہ 1210
3 میرے دور کے مسلمانوں‌
کی بے غیرتی کا عالم دیکھیے آج پاکستان بن چکا ہے لیکن آج پاکستان بن جانے پر بھی
اس مرد مجاہد یعنی اسلامی سلطنت کے اولین بانی کو آسمان نصیب نہیں ہوا حفیظ دسمبر
سنہ 1949
4 رقیون اصل میں بابل
کا ہی باشندہ تھا جس نے مصر  میں‌ حکومت
قائم کر لی تھی ۔ اور فرعون لقب اختیار کیا
5 ان روایات کا اصل مفہوم
یہ ہے کہ فرعون مصر نے زبردستی حضرت ساراؓ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے چھیننا
چاہا ۔ لیکن حضرت ساراؓ کی پاکباز غیور شخصیت نے اسے بتایا کہ ابراہیم علیہ السلام
اور اس کی زوجہ عام انسانوں سے بہت بلند ہیں ۔ وہ مرغوب ہو گیا ۔ حضرت ساراؓ کی
پاکبازی سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنی بیٹی آجر یا ہاجرہؓ جس کو وہ ساراؓ ہی کی طرح
پاکباز دیکھنا چاہتا تھا ساراؓ کے ساتھ کر دی
6 حضرت ساراؓ کے اولاد
نا تھی آپ نے اپنی خوشی اور تمنا سے ہاجرہؓ کا عقد اپنے شوہر ابراہیم علیہ السلام
سے کیا ۔ حضرت ہاجرہؓ کے بطن سے اسمٰعیل علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ اب حضرت ساراؓ پیغمبر
علیہ السلام کی بیوی ہونے کے باوجود عورت بھی تھیں ۔ آپ کو رشک آیا اور یہ رشک
اسمٰعیل علیہ السلام اور ہاجرہؓ کے دیس نکالے جانے کا سبب بنا ۔ لیکن دراصل دنیا کے
لئے خیر و برکت کا باعث بنا ( مصنف)
7 انی اسکنت من ذریتی بوا د غیرذی
زرع
( پ 13 ابراہیم 6 ع 37
) میں نے اپنی ذریت کو بے آب و گیاہ وادی میں آباد کیا ہے
8 مسلمان حاجی ان بھی
مناسک حج ادا کرتے وقت صفا و مروہ پر دوڑتے ہیں ۔ یہ حضرت ہاجرہؓ ‌کی اس سعی کی یادگار
ہے جو آپ نے پانی کی تلاش میں فرمائی تھی
9 یہ قبیلہ عرب کے قدیم
ترین قبائل میں سے تھا ( تفصیل کے لئے دیکھو سیرت النبی)
10 یہ عجیب بات ہے اور
اسے معجزہ نہ کہیں تو اور کیا کہیں کہ زمزم کا پانی بھوک اور پیاس دونوں کے لئے اکتفا
کرتا ہے میں‌ نے بے شمار حاجیوں سے سنا کہ انہوں نے کئی کئی دن محض زمزم کے پانی
پر گزر کی اور انہیں اشتہا نہیں ہوئی ۔ میں نے خود پانچ دن رات تجربہ کیا اور قسمیہ
کہتا ہوں کہ سوائے آب زمزم میں نے کچھ کھایا پیا نہیں ۔ مجھے بھوک قطعاًَ محسوس نہیں
ہوئی ( حفیظ)
11 فلما بلغ معہ السعی
قال یا بنی انی اری فی المنام انی اذ بحک فا نظر ماذ تری ( پ
۲۳ الصفت ۳ ع ۱۰۲)
ترجمہ :۔ پھر جب وہ
لڑکا اس کے ساتھ ہو لیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا بیٹے میں‌ نے خواب دیکھا
ہے کہ میں‌ تجھ کو ذبح کر رہا ہوں تیری کیا رائے ہے
12 یابت افعر ما تو مر ستجدنی
ان شا اللہ من الصبرین
( پ ۲۳ الصفت ۳ ع ۱۰۲)
ترجمہ :۔ ابا ۔ آپ کو
جو حکم ہوا ہے کر گزریے خدا نے چاہا تو میں‌ثابت قدم رہوں گا
13  یا ابراہیم قد صدقت الرویا انا
کذلک نجزی المحسنین
( پ ۲۳ الصفت ۳ ع ۱۰۵)
ترجمہ :۔ اے ابراہیم علیہ
السلام تو نے خواب کو سچا کر دکھایا ہم اسی طرح‌ نیکوکاروں کو جزا دیتے ہیں
14 وفدیناہ بذبح عظیم ( پ ۲۳ الصفت ۳ ع ۱۰۷)
ترجمہ :۔ اسمٰعیل کی
قربانی کے بدلے ہم نے بڑی قربانی قائم کی
15 وکذلک جعلنکم امۃ وسطا لنکو
نرا شھدآ ٗ علی الناس
( پ ۲ البقر ۱۷ ع ۱۴۳)
ترجمہ :۔ ہم نے تم کو
بہترین امت بنایا ہے تاکہ لوگوں کے سامنے خدا کی شہادت ادا کرو
16 یاد رکھنا چاہیے کہ
مکہ کا نام لغت کی کتابوں میں‌ نافِ  زمین
ہے انساں کے جسم میں ناف بھی ٹھیک وسط میں‌ نیں ہوتی بلکہ تقریباً میں ہوتی ہے اور
یہی وجہ ہے کہ مکہ بھی وسطِ  حقیقی کے قریب
تر واقعہ ہے ڈیڑھ درجے کا جو تفاوت ہے وہ اس لئے ہے کہ مکہ نافِ  زمین ثابت ہو ( رحمۃ للعٰلمین)
17 و اذیرفع ابراہیم القو اعدمن
البیت و اسمٰعیل
( پ ۲ البقرہ ۱۵ ع ۱۲۷)
ترجمہ :۔ اور جب ابراہیم
اور اسمٰعیل کعبے کی دیواریں اٹھا رہے تھے
18 ان سے ایک مراد یہ
بھی تھی ”
ربنا و ا بعث فیہم رسولا منھم یتلو اعلیھم ایتک و یعلمھم
الکتب و الحکمۃ و یزکیھم
( پ ۱ البقرۃ ۱۵ ع ۱۲۹)
ترجمہ :۔ اے ہمارے پروردگار
! اس جماعت کے اندر ہی ایک ایسا پیغمبر بھی مقرر کرنا جو ان لوگوں کو تیری آیتیں‌سنایا
کرے اور ان کو کتاب اور خوش فہمی کی تعلیم دیا کرے اور ان کو پاک کر دے
19 و طھر بینی للطائفین و
القائمین وارکع السجود ۔ و اذن فی الناس بالحج یا تو ک رجالا و علی کل ضامر یاتین
من کل فج عمیق
( پ ۱۷ الحج ۱۴ ع ۲۷)
ترجمہ :۔ ہمارا گھر
طواف کرنے والوں قیام کرنے والوں رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک
کر اور تمام لوگوں کو پکار دے کہ حج کو آئیں پیدل بھی دبلی اونٹنیوں پر بھی اور ہر
دور دراز گوشے سے آئیں گے ۔
20 پیدائش کے باب ۲۵ درس ۹ میں‌ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو ان کے بیٹے اسمٰعیل
علیہ السلام اور اسحٰق علیہ السلام نے دفن کیا ( سر زمینِ  شام میں مقامِ  خلیل آپ کا مدفن مبارک ہے )  ( مراۃالانساب)
21 حضرت یوسف علیہ
السلام کو ان کے بھائیوں نے غلام بنا کر فروخت کر ڈالا تھا بکتے بکتے وہ فرعون مصر
کی بیوی زلیخا کے ہاتھ لگے وہاں بہت اتار چڑھاؤ اور تکالیف کے بعد آپ فرعونِ  مصر کے نائب ہو گئے ۔ یہ قصہ قرآن کریم میں بھی
مذکور ہے حضرت یوسف علیہ السلام کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام پیغمبر کو جب اپنے
گمشدہ بیٹے کا پتہ ملا تو وہ اپنے خاندان کے افراد کو جن کی تعداد ستر تھی ساتھ لے
کر مصر چلے گئے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کی بڑی خاطر داری کی حضرت یعقوب علیہ
السلام کے انتقال کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی بھتیجے مصر میں ہی رہے اور
پھلنے پھولنے لگے جب حضرت یوسف علیہ السلام کا انتقال ہو گیا تو رفتہ رفتہ بنی
اسرائیل کو مصریوں‌ نے ذلیل کر کے غلام بنانا شروع کر دیا تورات کتاب پیدائش میں
سب مذکور ہے اور قرآن کریم میں‌ یہ حالات بیان کئے گئے ہیں ۔ ( مصنف)
22 مسلمانوں کو حضرت
موسیٰ کے حالات جہاں بھی ملیں غور خوض سے مطالعہ کرنے چاہیئں قرآن مجید میں بار
بار موسیٰ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے
23 واذ فرقنابکم البھر فا نجینکم
و اغر قنا ال فرعون
ترجمہ :۔ اور جب ہم نے دریا
کو تمھارے لئے شق کر دیا اور تم کو بچا لیا اور آل فرعون کو غرق کر دیا
24 اذ استصقی موسیٰ لقومہ فقلنا
اضرب بعصاک الحجر ۔ فانفجرت منہ اثنثا عشرۃ عینا
( پ ۱ البقرۃ ۷ ع ۶۰)
ترجمہ :۔ اور یاد کرو جب
موسیٰ‌نے اپنی قوم کے لئے پانی کی دعا مانگی تو ہم نے حکم دیا اپنا عصا پتھر پر
مارو پس فوراَ اس سے بارہ چشمے پھوٹ بکلے ( اور بنی اسرائیل کے بارہ ہی خاندان تھے
)
25 وانزلنا علیکم المن
و سلوی ( پ
۱ البقرۃ ۷ ع ۵۷)
ترجمہ :۔ اور پہنچایا
تمھارے پاس من و سلویٰ ۔
26 فاذھب انت وربک فقاتلا انا
ھہنا قاعدون
( پ ۶ المائدہ ۳ ع ۱۴)
ترجمہ :۔ تم اور تمھارا
پروردگار جا کر لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں
27 ولقد جاءکم موسیٰ بالبینت ثم
اتخذتم العجل من بعدہ و انتم ظلمون
(پارہ نمبر 1، البقرہ ، ع: 11، آیت 92) اور موسیٰ تمہارے پاس صاف صاف دلیلیں
لائے . مگر اس پر بھی تم نے (موسیٰ کے طور پر جانے کے بعد) گوسالہ کو (معبود) تجویز
کر لیا. اور تم ظلم کر رہے تھے
28 حضرت سلیمان علیہ
السلام کی حکومت حضرت ابراہیم سے 958 برس بعد کا زمانہ تھا. آپ نے یروشلم میں
خدائے واحد کی عبادت کے
لیے بیت المقدس (ہیکل) تعمیر کیا جو کعبے کے بعد دوسرا بیت اللہ ہوا. (دیکھو تفصیل
کے لیے رحمۃ للعلمین)
29 ان اللہ لا یغیر ما
بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم (پ:13، الرعد، ع: 1، آیت:11) اللہ تعالی کسی قوم کی
حالت نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے آپ کو نہ بدلے
30 مسیق بادشاہ مصر نے یروشلم
پر حملہ کر کے مح شاہی اور بیت المقدس کو لوٹا، پھر بخت شاہ بابل نے یروشلم پر
حملہ کیا1401 ابراہیمی میں اسے فتح کر لیا. اور یہود کے بادشاہ یہوبکین کو اس کے امراء
اور اہل خانہ سمیت گرفتار کر لیا. شاہ سلیمان کا خزانہ ، بیت المقدس کا نذرانہ لوٹ
لیا . دس ہزار بہادروں اور پیشہ وروں کو پابجولاں کر کے بابل لے گیا.بخت نصر نے اپنے
چچا صدقیاہ کو کنعان کا بادشاہ بنا دیا تھا. آخر بیت المقدس ، سلیمان کے قصر اور
تمام شہر کو جلا کر خاک کر دیا. فصیلیں ڈھا دیں اور جتنے لوگ زندہ تھے سب کو پکڑ
کر بابل لے گیا. ان قیدیوں میں حضرت ذوالکفل بھی تھے جن کی نبوت کا آغاز حضرت
ابراہیم سے 1406 سال بعد ہوا.آپ کے بعد حضرت عزیر کی نبوت کے زمانہ میں ایران نے بابل
کو فتح کیا تو بنی اسرائیل کو بابل کی غلامی سے نجات ملی .بیالیس ہزار آدمی پھر یروشلم
چلے گئے .فنیقی بھی اب پھر حملہ آور ہوئے . رومی تو اس طرح قابض ہوئے کہ آخر اسلام
نے ان کو وہاں سے نکالا.
31 اسمعیل علیہ السلام
کی شادی عرب کے اس قبیلہ جرہم کے سردار مضاض کی بیٹی سے ہوئی تھی جو حضرت ہاجرہ رضی
اللہ تعالیٰ عنہا سے اجازت لے کر چشمہ زمزم کے قریب آباد ہو گیا تھا.(مصنف)
32 ان بارہ بیٹوں کے نام
یہ تھے .(1) بنایوث یا بنایوط (2) قیدار (3) اوباقیل (4) سیام (5) مشماع (6)دوماہ
(7) مسا (8)حدر(9) یتمار (10(لیطور (11)ناخیش (12) قیدماہ. یہی بارہ رئیس تھے جن کے
متعلق خدا نے حضرت ابراہیم کو بشارت دی تھی کہ اسمعیل کے حق میں میں نے تیری دعا
قبول کی. دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے آبرو مند کرونگا اور اس قدر بڑھاؤں گا
کہ اس سے بارہ رئیس پیدا ہوں گے . اور میں اسے ایک بڑی قوم بناؤں گا.چنانچہ ایسا ہی
ہوا. ان بارہ رئیسوں میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی بستیاں بسائیں جو ان کے ناموں پر
مشہور تھیں. ان کی اولاد اتنی بڑھی کہ حجاز سے نکل کر شام ، عراق اور یمن میں*پھیل
گئی. انہوں نے حکومت اور تجارت اختیار کی
33 اکثر نسب ناموں میں
عدنان سے حضرت اسماعیل تک آٹھ نو پشتیں بیان کی جاتی ہیں لیکن بقول علامہ شبلی رح یہ
صحیح نہیں. انہوں نے ثابت کیا ہے کہ عدنان سے حضرت اسماعیل تک چلیس پشتوں کا فاصلہ
ہے (دیکھیے سیرت النبی حصہ اول)
34 حضرت موسی نے جب مصر
سے ہجرت کی تھی تو عرب ہی میں آ کر پناہ لی تھی. اور عرب ہی کے ایک پہاڑ پر آپ کو
نبوت تفویض ہوئی پھر جب وہ بنی اسرائیل کو مصر سے آزاد کر کے لائے تو بیابان عرب ہی
میں انہوں نے چالی سال پورے کیے تھے .حضرت داؤد بھی بادشاہ سموئیل کی وجہ سے ہجرت
کر کے عرب ہی میں آ کر ٹھہرے تھے . جب بنی اسرائیل کو بخت نصر نے تباہ و برباد کیا
تو انہیں معد بن عدنان ہی نے عرب میں عزت و احترام سے رکھا تھا .(رحمۃ للعالمین)
35 عدنان کے بعد اس قوم
پر بنی جرہم کا قبیلہ غالب آگیا. اگرچہ وہ ان کے ماموں ہی تھے تاہم انہوں نے ان کو
مکے سے نکال دیا.(رحمۃ للعالمین)
36 دیکھو تمدن عرب از
علامہ جرجی زیدان
37 قصی کا نسب نامہ اس
طرح ہے قصی ابن کلاب ، ابن مرہ، ابن کعب، ابن نوی، ابن غالب، ابن فہر(یعنی قریش
اول)، ابن مالک، ابن نضر، ابن کنانہ، ابن مدرکہ، ابن الیاس، ابن مضر، ابن نزار،
ابن معد، ابن عدنان، عدنان سے 40 پشت اوپر حضرت اسمعیل . (دیکھو سیرت النبی)
قصی سے پہلے قریش میں
تفرقہ پڑ گیا تھا. اور وہ ادھر ادھر متفرق ہو گئے تھے . کعبے کی تولیت قبیلہ خزاعہ
کے ہاتھ میں آ گئی تھی مگر قصی نے از سر نو قریش کو جمع کیا. خزاعیوں کے ہاتھ سے کعبے
کی خدمت حاصل کی اور قریش کو دوبارہ سرداری کی مسند پر بٹھایا . ایک قسم کی جمہوری
حکومت قائم کی.بہت سی اصلاحیں کیں.(سیرت النبی)
38 قصی کے تین بیٹے تھے
.عبد مناف ، عبدالدار ، عبدالعزی . یہی عبد مناف پیغمبر اسلام محمد مصطفی صلی اللہ
علیہ وآلہ و سلم کے جد اور عبدالدار حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کے جد تھے .(مصنف)
39 عبد مناف کے بیٹے ہاشم
حضرت سرور کائنات کے پردادا تھے . یہ قریش میں بہت ممتاز اور مقتدر تھے . ان کی
اولاد بنو ہاشم یا ہاشمی کہاتی ہے . (مصنف)
40 آنحضرت صلی اللہ علیہ
و سلم کے دادا
41 ایک عورت کے ایک سے زیادہ
خاوند ہونے کا رواج جو نہایت ادنیٰ اقوام میں پایا جاتا تھا. ان میں موجود تھا مرد
جس قدر عورتوں سے چاہتا شادی کر سکتا تھا. اور اس کے علاوہ جیسا کہ یورپ میں آج کل
بھی رواج ہے اپنے لیے محبوبہ بھی رکھ سکتا تھا. ان میں نیوگ کی رسم بھی جاری تھی.
عورت محض ایک جائیداد سمجھی جاتی تھی. اس کا اپنے متوفی خاوند یا دوسروں کی وراثت
میں کوئی حصہ تسلم نہ کیا جاتا تھا. بلکہ وہ خود جائیداد موروثہ کا ایک حصہ قرار
پا کر ورثے میں چلی جاتی تھی اور وارث چاہتا تو اس سے نکاح کر لیتا چاہتا تو کسی
دوسرے سے کرا دیتا . یہاں تک کہ بیٹے اپنے باپ کی عورتوں کو ورثہ کا حصہ سمجھ کر
ان سے شادی کر لیتے اور ان کو انکار کا حق نہ تھا.(خیر البشر23)
42 مرد و عورت کے تعلقات
میں نہایت درجے کا فحش بھی تھا. ناجائز تعلقات کے نہایت گندے قصے کھلے اشعار میں
فخریہ بیان کیے جاتے . بڑے بڑے مشہور قصائد میں جو اپنی فصاحت میں لاثانی سمجھے جاتے
ہیں. ایسے فحش اور ننگے الفاظ میں ان تعلقات کا ذکر ہے کہ جن کی برداشت زبان اور
کان نہیں کر سکتے .(خیر البشر ص: 42)
43 وحشیانہ پن میں
انتہاء کو پہنچا ہوا طریق لڑکی کو زندہ در گور کرنے کا تھا. پانچ چھ سال کی لڑکی
کو باپ جنگل میں لے جاتا اور ایک گڑھے کے کنارے پر کھڑی کر کے دھکا دے کر گرا دیتا.
چیختی چلاتی ہوئی مغموم جان پر مٹی ڈال کر چلا آتا
44 بعض اوقات نکاح کے وقت
بیوی سے معاہدہ کر لیا جاتا تھا کہ اگر لڑکی پیدا ہو گی تو اسے مار ڈالا جائے گا.
اس صورت میں غریب ماں سے اس فعل کا ارتکاب کرایا جاتا اور ستم یہ کہ اکثر کنبے کی
عورتوں کو اکٹھا کر کے یہ کام کیا جاتا .(خیر البشر ص:52)
45 کنتم علی شفا حفرۃ من النار (پ: 4، آل عمران، ع: 11، آیت : 103) تم آگ کے گڑھے کے
کنارے پر تھے
46 یہ جنگ فجار ثانی
کہلاتی ہے . یہ بنی عامر اور بنی کنانہ میں شروع ہوئی اور بعد ازاں سب کے سب قبائل
کوئی ادھر کوئی ادھر شامل ہو کر مدتوں لڑتے رہے
47 ہندوستان کے ایرین ایسے
وہم پرست ہو گئے کہ مخلوق میں سے کوئی چیز ایسی نہ رہی جس کو انہوں نے نہ پوجا ہو.
48  برہمن سب سے افضل ، ان سے اتر کر چھتری ، ان سے
گھٹیا ویش اور تینوں سے گھٹیا شودر . آخر الذکر ایسے بد نصیب کہ ہندو مذہب ان کو جینے
کا حق بھی نہیں دیتا . حتی کہ جس زمین پر اوپر کی تین قومیں چلتی پھرتی ہوں شودر
کا سایہ بھی پڑ جائے تو وہ زمین گویا ناپاک ہو گئی.(مصنف)
49  خود ہندو محققین یہ کہتے ہیں کہ ویدک مذہب میں
خرابیاں پیدا کرنے والے وام مارگی ہیں ان لوگوں نے مذہب کی آڑ میں بدمعاشیوں اور
فواحش کو رواج دیا اور دیوی دیوتاؤں کے ایسے قصے گھڑے جن سے ان کے لیے حرامکاری کا
جواز ثابت ہو.
50 کنفیوشس چین کا ایک
بہت بڑا مصلح مسیح سے کچھ مدت پہلے گزرا ہے .(مصنف)
51 موجودہ زمانہ کے پارسی
اب بھی آگ کو خدا کا سب سے بڑا مظہر سمجھتے ہیں. اس مذہب کی ابتداء زرتشت سے ہوئی.
پارسیوں کا عقیدہ ہے کہ زرتشت مسیح سے تیرہ سو برس پہلے شہر رَے یا ارمیاہ میں پیدا
ہوا تھا. زرتشت اگرچہ مذہب توحید کا مبلغ تھا. لیکن اس کے ماننے والوں نے اس کی
تعلیم کو مسخ کر کے یزدان و اہرمن دو خداؤں کی پرستش شروع کی.چونکہ یزدان روشنی کا
منبع خیال کیا جاتا تھا اس لیے آگ کی تعظیم کرنے لگے . اور آخر کار آگ ہی کے پجاری
بن گئے . (مصنف)
52  وکم اھلکنا قبلھم من قرن ھم اشد منھم بطشا
فنقبوا فی البلاد ھل من محیص
. ( پ
26، ق ، ع: 3، آیت: 36) کتنی قومیں ہلاک ہو گئیں جو ان سے زیادہ مضبوط تھیں. انہوں
نے شہروں کو چھان ڈالا تھا. ہے کوئی جگہ بھاگنے کی
53  دین عیسوی اپنے ابتدا ہی میں بدعتیوں کی خلل
اندازی سے مسخ ہو گیا تھا . پولوس یا سینٹ پال نے یونان اور روم کے شہروں میں پھر
پھر کے دین مسیحی کو مشرکین کے عقائد کے قالبوں میں ڈھالا اور پھیلانا شروع کیا.
جس کا نتیجہ یہ ہوا، کہ بہت جلد جو پیٹر اور زیوس دیوتاؤں کو ماننے والے حضرت مسیح
کو خدا کا بیٹا یعنی ابن اللہ کہنے اور خدا کی خدائی کا شریک اور منتظم ماننے گرداننے
لگے .(مصنف)
54  رومن کیتھولک عیسائی اب تک گرجوں میں مسیح کی
تصویر کو پوجتے ہیں. اور ان کے کئی فرقے ایسے ہیں . جو خدا اور اس کی والدہ حضرت
مریم کے پرستار ہیں . اور نعوذ باللہ ان کو خدا کی بیوی کہتے ہیں.(مصنف)
55  335 ء قسطنطین اعظم شہنشاہ روم نے یہی پولوس کا
سکھایا ہوا دین عیسوی قبول کیا . اور خود عیسائی مورخین اس امر کے قائل ہیں کہ اس
نے اس دین کو بزور شمشیر پھیلانے کی ابتدا کی.(مصنف)
56  ابی سینا چوتھی صدی مسیحی میں ہوا.
57  چھٹی صدی عیسوی میں یہ جنگ زوروں پر تھی.(مصنف)
58  رحمۃ للعالمین جلد دوم صفحہ 106 سردار عبداللہ
کی عفت نفس کا ایک واقعہ ابونعیم و خرابطی و ابن عساکر نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ
عنہ سے بیان کیا ہے کہ فاطمہ بنت مرالخثعمیہ نے ان سے اظہار محبت کیا اور اپنی
جانب متوجہ کرنے کے لئے سو اونٹوں کا عطیہ ان کو دینا چاہا ۔ لیکن انہوں‌ نے اس
درخواست کے جواب میں یہ قطعہ پڑھا :۔
اماالحرام فاللمات دونہ
والحل لا حل فاسبینہ
فکیف الی الموء الذین تبعینہ
یحم الکریم عرضہ و دینہ
ترجمہ:۔ فعل حرام کے ارتکاب
کرنے سے تو مر جانا ہی اچھا ہے حلال کو بیشک میں پسند کرتا مگر اس کے لئے اعلان
ضروری ہے تم مجھے بہکاتی اور پھسلاتی ہو مگر شریف انسان کو لازم ہے کہ اْپنی عزت
اور دین کی حفاظت کرے
59 تذکرہ الرسول و آباء
العدول صفحہ 32 ۔ یہودیوں‌ نے علامات نور محمدی آپ میں‌ پاکر چند ایک بار ہلاکت کا
قصد کیا مگر ہمیشہ ناکام رہے ایک مرتبہ آپ شکار کے لئے گئے تھے دشت میں‌ تنہا پا
کر آپ کی ہلاکت کا قصد کیا اتفاق سے اس وقت وہب ابن عبد مناف والد حضرت آمنہ رضی
اللہ تعالیٰ عنہ بھی وہاں‌ آ گئے انہوں نے دیکھا کہ چند سوار غیب سے ظاہر ہوئے اور
حضرت عبداللہ کے دشمنوں‌ پر حملہ کر کے ان کو بھگا دیا یہ حال دیکھ کر ان کے دل میں‌آرزو
پیدا ہوئی کہ اپنی صاحبزادی حضرت آمنہ کا عقد آپ سے کر دیں‌
60  اسے ابربۃ الاشرم کہتے تھے ۔ کیونکہ اس کے ہونٹ
اور ناک کسی لڑائی میں نیزے کی انی سے چھد گئے تھے ۔ یہ شخص اگرچہ حبش کا باجگزار
تھا۔ مگر یمن میں حاکم علی الاطلاق بنا ہوا تھا۔ اس کا مذہب عیسائی تھا۔
﴿مصنف﴾
61  یہ کلیسا یمن کے پایہ تخت صنعا میں ابرہہ نے تعمیر
کیا تھا ۔
62  دیکھو تفسیر غلبہ روم از مولٰنا ظفر علی خاں،
ص: 13-14 
63 الم تر کیف فعل ربک باصحب
الفیل۔ الم یجعل کیدھم فی تضلیل ۔ وارسل علیھم طیرا ابابیل ۔ ترمیہم بحجارۃ من سجیل
۔ فجعلھم کعصف ماکول
۔(پ:30، الفیل، ع: 1، ﴾
تو نے دیکھا کہ تیرے پروردگار
نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ۔ کیا اس نے اس گروہ کے کیا دانہ منصوبوں کو باطل
نہیں کیا۔ اور ان کے مقابلے کے لیے ابابیلوں کا لشکر نہیں بھیجا۔ جو ان پر سنگریزوں
کی بوچھاڑ کرتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے جسم کھائے ہوئے بھس کی طرح ہو گئے ۔
64 ان اللہ وملئکتہ یصلون علی
النبی ۔ یا ایھا الذین اٰ منو صلو علیہ و سلموا تسلیما
۔ (پ:22، الاحزاب، ع: 56،﴾ تحقیق اللہ اور اس کے فرشتے
نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو تم بھی اس پر بہت درود و سلام بھیجو۔
65  بیان کیا جاتا ہے کہ عبدالمطلب کے بہت بیٹے تھے
۔ حارث، زبیر، ابوطالب، عبدالکعبہ، عبداللہ، ابولہب، مقومحجل، مغیر، حمزہ، ضرار،
قسم، عباس، غیداق، مصعب، مگرمؤرخین کو دس کے حالات معلوم ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثر
کی اولاد چلی اور اب تک نسل باقی ہے ۔ یہ سب مطلبی کہلاتے ہیں۔ زبیر، ابوطالب، اور
عبدالکعبہ اور عبداللہ یہ چاروں ایک ماں کے بطن سے تھے ۔(دیکھو رحمۃ للعلمین۔جلد
دوم۔ ص: 75)
66  مولوی عبدالحلیم شرر نے اپنی کتاب خاتم المرسلین
میں اس خواب کی تفصیل عبدالمطلب کی زباں سے اس طرح بیان کی ہے “عبدالمطلب کا
بیان ہے کہ میں ایک دن کعبہ کے کٹہرے کے اندر سو رہا تھا ناگہاں کیا دیکھتا ہوں کہ
ایک درخت زمین سے اگا اور بڑھنے لگا۔دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سے جا لگا اور اس کی
ٹہنیاں مشرق و مغرب تک پھیل گئیں۔ پھر اس میں ایک روشنی نظر آئی۔ جس سے صاف روشنی
میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ پھر کیا دیکھتا ہوں کہ اہل عرب و عجم اس ے سامنے جھک رہے ہیں۔
اور وہ درخت باعتبار عظمت و روشنی ساعت بساعت بڑھتا جا رہا ہے ۔اسی حالت میں قریش
میں سے بعض لوگ تو اس کی ٹہنیوں سے لپٹ گئے اور بعض نے ارادہ کیا کہ اسے کاٹ ڈالیں
جب اس کے قریب پہنچے تو ایک نورانی نوجوان نمودار ہوا جس سے خوشبو کی لپیٹیں آ رہی
تھیں۔ اس نے آتے ہی ان سب کو مار کے ہٹا دیا اور ایسے حملے کیے کہ ان کی پیٹھیں
توڑ ڈالیں ۔ اور آنکھیں نکال لیں۔ یہ دیکھ کر میں نے چاہا کہ ہاتھ بڑھا کر درخت کی
کوئی شاخ پکڑ لوں مگر نہ پا سکا۔(ختم المرسلین﴾
67  یہ مکان بطاح میں واقع تھا۔ اور بعد کے زمانے میں
ابو یوسف کا مکان کہلاتا تھا۔ آنحضرت نے یہ مکان بعد فتح مکہ عقیل بن ابی طالب کو
دے ڈالا تھا۔ عقیل کے بعد ان کی اولاد نے حجاج بن یوسف کے بھائی محمد یوسف کے ہاتھ
فروخت کر دیا۔ اس نے جب اپنا مکان تعمیر کیا تو اس مکان کو بھی اس میں شامل کر لیا۔
اور اسی وجہ سے محمد بن یوسف کے نام سے مشہور ہوا۔ ابن عباس کے زمانے میں خلیفہ
ہارون الرشید کی ماں خیز ران نے اس متبرک زمین کو اپنے قبضہ میں کر کے وہاں ایک
مسجد تعمیر کرا دی۔(کامل۔ ابن اثیر﴾
68  اور تو اور ابو لہب نے بھی آپ کی ولادت کا مژدہ
سن کر اپنی لونڈی ثوبیہ نامی کو آزاد کر دیا تھا۔ یہی وہ خوش نصیب عورت ہے جس نے پہلے
پہل آنحضرت کی دایہ بننے اور دودھ پلانے کی سعادت حاصل کی۔
69  دادا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا نام
محمد اور ماں نے خواب میں ایک فرشتے سے بشارت پا کر احمد رکھا۔ (رحمۃ للعالمین) حدیث
میں ہے کہ زمین پر میرا نام محمد اور آسمان پر احمد ہے ۔ (دیکھو خطبات احمدیہ ۔ سر
سید احمد کے مضامین)
70 حضرت حلیمہ سعدیہ کا
اسلام لانا ثابت ہے ۔ ابن ابی خثیمہ نے تاریخ میں ابن جوزی نے حدار میں۔ منذری نے مختصر
سنن ابی داؤد میں ابن حجر نے “اصابہ” میں ان کے اسلام لانے کی تصریح میں
ان کے اسلام لانے پر ایک مختصر رسالہ لکھا ہے ۔ جس کا نام التحفۃ الجسیمہ فی
الاسلام حلیمہ، ہے ۔ عہدِ  نبوت میں جب وہ
آپ کے پاس آئیں تو آپ “میری ماں” کہہ کر لپٹ گئے ۔ (سیرت النبی)
71  ہوازن کا قبیلہ جو بنی سعد بھی کہلاتا تھا ،
فصاحت و بلاغت میں مشہور ہے ? ابن سعدؓ نے طبقات میں روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے کہ میں تم سب سے فصیح تر ہوں کیونکہ میں قریش کے خاندان
سے ہوں اور میری زبان سعد کی زبان ہے  
72  مائی حلیمہ کے شوہر حارث بن عبدالعزی آنحضرت صلی
اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد مکے میں آئے تھے اور مسلمان ہو گئے تھے ? آپ نے آنحضرت
صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا کہ ’’ یہ آپ کیا کہتے ہیں ‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’ ہاں وہ دن آئے گا میں تجھ کو دکھا دوں گا
کہ میں سچ کہتا تھا ‘‘ حارث فورا ایمان لے آئے ب(سیرت النبی)
73  ان کا نام ھذاقہ تھا ، شیمہ کے لقب سے مشہور تھیں
74  عبداللہ ور شیمہ کا اسلام لانا ثابت ہے ? باقیوں
کا حال معلوم نہیں(سیرت النبی )
75  شیما ء آپ کو لوری دیتی اور یہ مصرعے پڑھتی تھی۔
ھٰذا اِ خ لی لم تلدہ امی ولیس من النسل ابی وعمی فانمہ اللھم قیما تنمی ترجمہ: یہ
میرا بھائی ہے جونہ میری ماں کے بطن سے ہے نہ میرے باپ اور چچا کی نسل سے اے اللہ
اسے بڑھا کر بڑا کر (سیرت الحبیب جلد1)
76  دو برس کی رضاعت کے بعد اول بار حلیمہ آپ کو لیکر
مکہ میں آئیں ۔ لیکن حلیمہؓ کو آپ سے محبت ہو گئی تھی اور غیبی برکات کے سبب آپ کو
جدا کرنے کو جی نہ چاہتا تھا ۔ نیز مکے میں ان دنوں وبا پھیلی ہوئی تھی ۔ اس لئے بصد
اصرار واپس لے گئیں۔ (خاتم المرسلین)
77  اس میں اختلاف ہے کہ حضرت حلیمہؓ کے ہاں کتنے برس
رہے ۔ ابنِ  اسحاق نے وثوق کے ساتھ چھ برس
لکھا ہے ۔ (سیرت النبی)
78  آپ (ص) کی والدہ آپ (ص) کو ساتھ لیکر مدینے گئیں۔
چونکہ آنحضرت کے دادا کی ننہال خاندان نجار میں تھی ۔ اس لئے وہیں ٹھہریں۔ حضرت
آمنہؓ اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لئے گئی تھیں۔ جو مدینہ میں مدفون تھے ۔ (سیرت
النبی)
79  واپس آتے ہوئے جب مقام ابوا پر پہنچیں تو سیدہؓ
کا انتقال ہو گیا اور اسی جگہ مدفون ہوئیں۔ ابوا ایک گاؤں کا نام ہے جو حجفہ سے 23
میل پر واقع ہے ۔ (رحمۃ للعالمین)
80  مدینے کے سفر میں حضرت آمنہ کے ساتھ ام ایمنؓ
بھی تھیں جو حضرت آمنہ کی لونڈی تھیں۔ آنحضرت (ص) کو حلیمہ سے پہلے کچھ دن دودھ بھی
پلا چکی تھیں۔ چنانچہ جب حضرت آمنہ کا ابوا میں انتقال ہو گیا تو ام ایمن آنحضرت
کو ساتھ لیکر مکہ میں آئیں (مصنف)
81  عبدالمطلب نے بیاسی برس کی عمر پائی اور حجون میں
مدفون ہوئے ۔ آنحضرت کی عمر آٹھ برس کی تھی۔ عبدالمطلب کا جنازہ اُٹھا تو آپ فرط
محبت سے آنسو بہاتے ہوئے ساتھ ساتھ گئے تھے (سیرت النبی ص)
82 عبدالمطلب نے مرت
وقت اپنے بیٹے ابو طالب کو آنحضرت کی تربیت سپر دکی اور ابو طالب نے اس فرض کو اپنی
موت کے دن تک اس طرح نباہا کہ نظیر نہیں ملتی ۔ عبدالمطلب کے دس بیٹے مختلف ازواج
سے (موجود) تھے ان میں سے آنحضرت ص کے والد عبداللہ اور ابو طالب ماں جائے بھائی
تھے ، اس لئے عبدالمطلب نے آپ کو ابو طالب ہی کے آغوشِ  تربیت میں دیا۔ ابو طالب آپ سے اس قدر محبت رکھتے
تھے کہ آپ کے مقابلے میں اپنے بچوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے ۔ سوتے تو آنحضرت جو
ساتھ لیکر اور باہر جاتے تو آپ کو ساتھ لے کر جاتے ۔ (سیرت النبی ص)
83  طبقات میں ابن سعد نے جلد اول میں بخاری نے کتاب
الاجارہ میں آنحضرت ص کا قول نقل کیا ہے کہ میں قراریط پر بکریاں چرایا کرتا تھا ۔
ابراہیم حربی کے قول کے مطابق قراریط ایک مقام کا نام ہے جو اجیاد کے قریب ہے ۔
(مصنف)
84  مورخین نے بحیرا راہب کا قصہ تفصیل کے ساتھ
لکھا ہے ۔ بصرہ کے مقام پر اس راہب نے آسمانی کتابوں کی بشارتوں اور پیش گوئیوں کے
مطابق دیکھ کر آپ کو پہچان لیا۔ اسی طرح بعض یہودیوں کے کاہنوں نے آپ کو پہچان لیا
کہ یہی وہ نبی ص ہیں جن کی خبر انبیائے سلف دیتے چلے آرہے ہیں۔ ( مصنف)
85  آپ نے لڑکپن میں بھی نہ تو کبھی بتوں کی تعظیم
کی ، نہ کوئی چڑھاوا چڑھایا، بلکہ بتوں پر چڑھائی ہوئی چیزیں بھی کبھی استعمال نہ
کی۔ جوانی میں جب تک نبوت تفویض نہ ہوئی تھی آپ ملت حنفیہ ابراہیمیہ کے پابند تھے اور
سچے خدائے ذوالجلال کے سوا کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ آپ خانہ کعبہ میں جاتے تھے
اور اسے معبد الہی مانتے تھے لیکن آپ نے کبھی ان بتوں کی طرف خیال نہ کیا ۔ جو
اندرون کعبہ مشرکین نے رکھ چھوڑے تھے ۔ ساری قوم ان بتوں سے حاجتیں طلب کرتی تھی
مگر آپ کعبہ میں جا کر بتوں سے منہ پھیر کر فرماتے تھے ’’ لبیک حقا تعبا وصدقا عذت
بما عاذنہ ابراہیم” یعنی اللہ تیری درگاہ میں حاضر ہوں، حق پسندی ،عبادت گزری
اور سچائی کے ساتھ اور اس سے پناہ مانگتا ہوں جس سے ابراہیم نے پنا ہ مانگی (مصنف)
86  آنحضرت ص نے مکہ کے چند آدمیوں کو ساتھ لیکر ایک
عہد باندھا تھا کہ ہم میں ہر شخص مظلوم کی حمایت کرے گا اور کوئی ظالم مکے میں نہ
رہنے پائے گا۔آنحضرت ص عہد نبوت میں فرمایا کرتے تھے کہ اس معاہدہ کے مقابلے میں
اگر مجھ کو سرخ رنگ کے اونٹ بھی دئے جاتے تو میں نہ لیتا۔ اور آج بھی ایسے معاہدے کے
لئے کوئی بلائے تو میں حاضر ہوں۔ (مصنف)
87  آپ نے جوانی میں کاروبار تجارت اختیار کیا ۔
اور اسی سلسلے میں یمن ، شام ، بصرہ وغیرہ کے سفر بھی کئے ۔ اور مکے میں کامیاب دیانتدار
اور خوش معاملہ تاجر کی حیثیت سے مشہور ہوئے ۔ بعض لوگ تجارت میں آپ کے شریک بھی
رہے ہیں ۔ چنانچہ سائب بن ابی سائب آپ کے شریک تھے ۔ سائب کا بیان ہے کہ میں آپ کی
معاملت اور دیانت دونوں سے ہمیشہ خوش رہا ۔ دیکھو رحمۃ للعالمین۔
88  اُم المؤمنین حضرت خدیجہؓ ایک شریف النفس پاکیزہ
اخلاق (قریش کے ایک معزز گھرانے کی) خاتون تھیں۔ آ پ کے والد کا نام خویلد تھا جو
مکے کے معزز رئیس تھے ۔ آپ کا سلسلہ نصب پانچ پشت اوپر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم
کے سلسلہ نصب سے مل جاتا ہے ۔یعنی خدیجہ ابن خویلد ابن اسد ابن عبدالعزیٰ ابن قصی
، عبدالعزی حضرت عبدالمطلب کے دادا عبد مناف بن قصی کے بھائی تھے ۔
89  خدیجہ بیوہ ہو چکی تھیں۔ آپ کی تجارت اس بیوگی
کی حالت میں بھی دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ آپ نے آنٍحضرت کی تاجرانہ دیانت و
امانت ، راست بازی ، حسن معاملت اور پاکیزہ سیرت کا شہرہ سنا تو آنحضرت کے پاس پیغام
بھیجا کہ آپ میرا مال تجارت لے کر جائیں۔ بصری ٰسے واپسی پر حضرت خدیجہ نے آپ کے پاس
شادی کا پیغام بھیجا ۔ تاریخ معین پر ابو طالبؓ ، حمزہؓ اور تمام رؤسائے خاندان خدیجہ
کے مکان پر تھے ۔ ادھر سے عمرو بن اسد یعنی حضرت خدیجہ کے چچا نے خطبہ پڑھا۔ ادھر
سے ابو طالب نے ۔ پانچ سو طلائی درہم مہر مقرر ہوا تھا۔ (مصنف)
90  حضرت خدیجہ چونکہ نہایت شریف النفس اور پاکیزہ
اخلاق تھیں ۔ جاہلیت میں لوگ ان کو طاہرہ کے نام سے پکارتے تھے (مصنف)
91  آنحضرت کی شادی عمر کے ۲۴ سال کی اور حضرت خدیجہ
کی عمر چالیس سال کی تھی۔ آنحضرت نے خدیجہ کی زندگی میں دوسری شادی نہ کی۔ (مصنف)
92  آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی جس قدر اولادیں
ہوائیں (بجز حضرت ابراہیم کے ) حضرت خدیجہ ہی کے بطن سے ہوئیں۔ (مصنف)
93  کعبہ کی تعمیر سیلاب وغیرہ کے سبب کمزور ہو گئی
۔ لہٰذا قریش نے ارادہ کیا کہ اسے دوبارہ تعمیر کر دیں۔ عرب کے تمام قبائل اس مذہبی
کام میں حصہ لینے کے لیے اکٹھے ہو گئے اور عمارت کے مختلف حصے آپس میں تقسیم کر لیے
تاکہ کوئی قبیلہ اس شرف سے محروم نہ رہ جائے ۔ لیکن حجر اسود کے نصب کرنے کا موقع
آیا تو سخت جھگڑا ہوا۔ ہر قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ یہ خدمت اس کے ہاتھ سے انجام پائے
۔ نوبت یہاں تک پہنچی کی تلواریں کھنچ گئیں۔ سیرت النبی ص)
94  عرب میں دستور تھا کہ جب کوئی شخص جان دینے کی
قسم کھاتا ہے تو پیالے میں خون بھر کر اس میں انگلیاں ڈبو لیتا تھا ۔ اس موقع پر
بھی بعض دعویدار قبائل نے یہ رسم ادا کی اور مرنے مارنے کی ٹھان لی۔ (سیرت النبی
ص)
95  چار دن تک ہنگامہ برپا رہا ۔ آخر ابو امیہ بن
مغیرہ نے جو قریش میں سب سے معمر تھا رائے دی کہ کل کی صبح کو سب سے پہلے جو شخص
حرم میں داخل ہو وہی ثالث قرار دیا جائے گا۔ کرشمہ ربانی دیکھو کہ سب سے پہلے لوگوں
کی نظریں جس نور پر پڑیں وہ جمال جہاں تاب محمدی تھا ۔ آپ کو دیکھ کر شور مچ گیا۔
امین آگیا ۔ امین آگیا۔ اور سب نے بخوشی آپ کو ثالث مان لیا۔ (سیرت النبی ص)
96  رحمت عالم نے فرمایا جو قبائل دعوے دار ہیں سب
ایک ایک سردار کا انتخاب کریں ۔ پھر آنحضرت نے اپنی چادر بچھا کر دست نبوت سے سنگ
اسود کو اٹھایا اور اپنی چادر پر رکھ دیا ۔ اور قبائل کے منتخب سرداروں سے کہا اب
اس چادر کے کنارے پکڑ کر سنگ اسود کو اٹھا ؤ اور مقررہ مقام پر لے چلو۔ چنانچہ سب
نے اٹھایا ۔ جب چادر موقع کے برابر آ گئی تو رحمت عالم نے حجر اسود کو پھر اٹھایا
اور خود نصب فرمایا۔ (گویا اشارہ تھا کہ دین الہی کا آخری تکمیلی پتھر بھی انہی
ہاتھو سے نصب ہو گا)
97  مکہ معظمہ سے تین میل پر ایک غار ہے جس کو غار
حرا کہتے ہیں۔ آپ مہینوں جا کر قیام فرماتے اور مراقبہ کرتے ۔ کھانے پینے کا سامان
ساتھ لے جاتے ۔ وہ ختم ہو چکتا تو پھر گھر تشریف لے جاتے ۔ اور پھر واپس جا کر
مراقبہ میں*مصروف ہو جاتے ۔ (مصنف)
98  نبوت کا  دیباچہ تھا کہ خواب میں آپ پر اسرار منکشف ہونے شروع
ہوئے ۔ ایک دن جب کہ آپ حسب معمول غار حرا میں محو مراقبہ تھے فرشتہ غیب نظر آیا
جو آپ سے کہہ رہا تھا۔
اقرا باسم ربک الذی خلق ہ خلق الانسان من علق ہ اقرا و
ربک الالکرام ہ الذی علم بالقلم ہ علم الانسان ما لم یعلمہ
(اقراء0پ 30 سورہ العلق ع 1)
ترجمہ: پڑھ اس خدا کا
نام جس نے کائنات کو پیدا کیا اور جس نے انسان کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا ۔
پڑھ تیرا خدا کریم ہے ۔ وہ جس نے انسان کو قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ وہ جس نے انسان
کو وہ باتیں سکھائیں جو اسے معلوم نہ تھیں۔
99  ابوبکر بن ابی قحافہ دولتمند ماہر انساب، صائب
الرائے اور فیاض تھے ۔ جب وہ ایمان لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے اور مکے
میں ان کا عام اثر تھا ۔ معززین شہر ان سے ہر بات میں مشورہ کرتے تھے ۔ آپ آنحضرت
کے پرانے دوست اور لڑکپن کے رفیق تھے اور مدتوں سے فیضیاب تھے ۔ اہل سیر کا بیان ہے
کہ کبار صحابہ ان ہی کی تبلیغ سے ایمان لائے ۔ (مصنف)
100  عثما ن بن عفانؓ خاندان امیہ کے ایک دولت مند
رکن تھے ۔
101  زبیرؓ بن عوام آنحضرت کی پھوپھی کے بیٹے اور
حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے تھے ۔ سعد بن ابی وقاصؓ۔ طلحہؓ بن عبیداللہ ، عبدالرحمنؓ بن
عوف، ابو عبیدہؓ ابن الجراح ، اسماؓ بنت عمیس ، ابو سلمہؓ عثمان بن مظعون۔ عبیدہؓ
بن حارث بن عبدالمطلب، سعیدؓ ابن زید اور ان کی بیوی فاطمہؓ بنت خطاب، ہمشیرہ حضرت
عمر فاروق(عمر فاروق اس وقت حالت کفر میں تھے )۔ اسماءؓ بنت ابی بکرؓ عبداللہؓ بن
مسعود ، عمارؓ بن یاسر ، خبابؓ ابن الارث، ارقمؓ، صہیبؓ رومی ان خوش قسمت اصحاب میں
سے تھے جو السابقین الاولین کہلائے ۔ (مصنف)
102  احتیاط کی جاتی تھی کہ محرمان خاص کے سوا کسی
کو خبر نہ ہونے پائے ۔ نماز کے وقت آنحضرت کسی پہاڑی میں چلے جاتے اور وہاں نماز
پڑھتے ۔ (سیرت النبی)
103  فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین ( پ 14 سورۃ الحجر 94)
ترجمہ: پس تجھے جو حکم
ہوا ہے واشگاف کہہ دے ۔ اور مشرکین کی کوئی پرواہ نہ کر۔
104  ابو لہب یہ خیال کرتا تھا کہ آل ہاشم میں اس
وقت سب سے بڑا میں ہوں۔ اس لے نبوت اگر ملنی تھی تو مجھے ملنی چاہئے تھی
105  و انذر عشیرتک الاقربین (پ19 الشعراء ) اور اپنے
نزدیکی خاندان والوں کو خدا سے ڈرا۔
106  یہ سب بنی ہاشم ہی تھے ۔ ان کی تعداد چالیس یا
ایک کم یا ایک زیادہ تھی۔ (رحمۃ للعالمین)
107  دیکھو رحمۃللعالمین۔
108  حضرت بلال حبشی النسل تھے ۔ امیہ بن خلف کے غلام
تھے ۔ ٹھیک دوپہر کے وقت امیہ ان کو عرب کی جلتی ہوئی ریت پر لٹاتا اور پتھر کی
چٹان سینے پر رکھ دیتا۔ یہ وہی بلال ہیں جو مؤذن کے لقب سے مشہور ہیں۔ حضرت یاسر
اور ان کے بیٹے عمار اور اب کی بیوی سمیہ مسلمان ہو گئے تو ابو جہل نے ان کو شدید
عذاب پہنچائے ۔ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو عذابوں میں مبتلا دیکھ
کر فرمایا ۔ اصبروا یا ال یاسرفان موعدکم الجنۃ۔ ترجمہ (یاسر والو صبر کرو تمہارا
مقام جنت ہے ) ابو جہل نے بی بی سمیہ کے اندام نہانی میں نیزہ مارا ور وہ تڑپ کر
ہلاک ہو گئیں۔ حضرت خباب بن الارت کے سر کے بال کھینچے جاتے تھے اور گردن مروڑ دی
جاتی۔ گرم پتھروں سے داغ دیا جاتا۔ (رحمۃ للعالمین)
حضرت صہیب رومی مشہور ہیں۔
مگر ان کے والد سنان کسریٰ کی طر ابلہ کے حاکم تھے ۔ رومیوں کے حملے کے سبب تباہ
حال ہو گئے ۔ ایک عرب نے ان کو خریدا۔ مکے میں عبداللہ بن جدعان نے روپیہ دے کر ان
کو آزاد کر دیا تھا۔ یہ مسلمان ہو گئے ۔ ابو فکیہہ صفوان بن امیہ کے غلام تھے ۔ امیہ
ان کا گلا گھونٹتا ، مارتا گھسیٹتا مگر وہ راہ خدا سے نہ ہٹے ۔ ان کے سینے پر ایسے
وزنی پتھر رکھے جاتے تھے کہ ان کی زبان
باہر نکل آتی ۔ (رحمۃللعلمین)
بسنیتہ ایک کنیز تھی
حضرت عمر جس وقت تک ایمان نہ لائے تھے ان کو اتنا مارتے کہ خود تھک جاتے ۔ اور وہ
اسلام پر قائم رہی۔ نہدیہ اور زنیرہ بھی کنیزیں عامر بھی غلام تھے ۔ (سیرت النبی)
109 حضرت ابو بکر کے دفتر
فضائل کا پہلا باب یہی کے کہ انہوں نے بے دریغ دولت صرف کر کے مظلوم مسلمان لونڈی
اور غلاموں کو بھاری بھاری داموں پر خرید کر کے آزاد کر دیا۔ (مصنف)
110  ابو جہل اب ہشام، امیہ بن خلف، عقبہ بن معیط،
ابو سفیان بن حرب بن امیہ، ولید بن مغیرہ (حضرت کا خالد باپ) عاص بن وائل سہمی
(عمر بن عاص کا باپ) عتبہ بن ربیعہ (امیر معاویہ کا نانا) (مصنف)
111  قرآن مجید کی آیت ذیل میں اسی طرف اشارہ ہے :۔ لا تسمعو الھذ االقراٰن
والغفوا فیہ لعلکم تغلبون
(پ24 حم السجدہ )
ترجمہ:۔ اس قرآن کو نہ
سنو اس میں گڑ بڑ ڈال دو۔ شاید تم غالب آؤ۔
112  ابو لہب بن عبدالمطلب آنحضرت کا چچا تھا۔ مگر
آپ کو سب سے زیادہ ایذا دیتا تھا۔ آپ کے دروازے پر محض ستانے کے لیے نجاست ڈال دیتا۔
ایک مرتبہ کچھ اونٹ ذبح ہوئے تھے ۔ ان کی اوجھیں پڑی تھیں۔ ابو جہل نے دل لگی کی
راہ سے کہا۔ اس اوجھ کو کون لے کر اس شخص پر ڈالتا ہے ؟ عقبہ بن ابی معیط نے کہا میں
حاضر ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے اوجھ اٹھائی۔ آپ سجدے میں تھے کہ سر اور دونوں شانوں کے
درمیان رکھ دی۔ اور سب لوگ قہقہے لگانے لگے ۔ آپ اسی طرح ساکت و صامت سجدے میں پڑے
رہے ۔ سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہرا کو خبر ہوئی۔ اگر چہ وہ کمسن تھیں۔ مگر تاب
آئی۔ دوڑی ہوئی آئیں اور اس نجاست کو دونوں ہاتھوں سے ہٹایا۔ (خاتم المرسلین)
113  ایک دفعہ بہت سے قریش نے جن میں اشراف قریش
شامل تھے ۔ آنحضرت پر وار کیا۔ عقبہ بن ابی معیط نے آپ کے گلے میں چادر ڈال کر اس
قدر مروڑا کہ آپ کا دم رکنے کے قریب آگیا۔ اتنے میں حضرت ابو بکر جھپٹ کر آئے اور
ان لوگوں کے ہاتھ سے آپ کو یہ کہہ کر چھڑایا۔
اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ
وقدجاء کم بالبینت
(پ24 المومن )
ترجمہ۔ تم ایک شخص کو
محض اس لئے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے ۔ اللہ میرا پروردگار ہے اور تمہارے پاس
روشن دلائل لایا ہے ۔
114  ام جمیل ابو سفیان کی بہن تھی۔ وہ سو کام چھوڑ
کے جاتی اور خاردار جھاڑیوں کا ایک بوجھ پیٹھ پر لاد کے لاتی اور آپ کے راستے میں
بچھا دیتی۔ چونکہ آپ صبح اٹھنے کے عادی تھے اور اندھیرے منہ سے طواف کعبہ کیا کرتے
تھے اس لئے آپ کو ان کانٹوں سے سخت تکلیف پہنچتی۔ (مصنف)
115 حضرت نوح کے خاص
مقربین کی نسبت بھی کفار اسی طرح کہا کرتے تھے
وَمَانَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِ لاّالَّذِ
یْنَ ھُمْ اَرَازلُْنَاانھیں بَادِ یَ الَّرأْیِ  وَمَاَنریٰ َلکُمْ عَلَیْنَا مِ نْ فَضْل بَلْ
َنظُنُّکُمْ کٰٰذِ بِ یْنَ
0 ع٣آیت ٢٧
لوگوں نے تیری پیروی اور
ہم تو  بظاہر یہی دیکھتے ہیں کہ کی ہے جو رذیل
ہیں۔اس لئے ہم تم میں کوئی برتری نہیں پاتے بلکہ ہماری نظر میں تم سب جھوٹے ہو
116  اِ نَّکُمْ وَمَاتَعْبُدُوْنَ مِ نْ
دُوْنِ  اللّٰہِ  حَصَبُ جَھَنَّمَ
(پ١٧ الانبیاء ع٧0 ٩٨)
تم اور جن چیزوں کو تم
اللہ کے سوا پوجتے ہو سب دوزخ کا ایندھن ہونگی
117  قُلْ اِ نّمَااَناَبَشَرمِ ّثلُکُمْ
یُوْحیٰ اِ لَیَّ اَنَّمَآ اِ لٰھُکُمْ اِ لٰہ وَّاحِ د فَاسْتَقِ یمُوْا اِ لَیْہِ
وَاسْتَغْفِ رُوْہُ ط
(پ٢٤ حٰم السجدہ ع ١ 0 ٦)
کہہ دے میں تمھارے جیسا
بشر ہوں۔وحی کی جاتی ہے میری طرف کہ تمھارا خدا صرف وہی ایک خدا ہے ۔پس سیدھے اس کے
حضور میں جاؤ اور معافی طلب کرو۔
قُلْ اَئِ نّکُمْ لَتَکْفُرُوْنَ بِ الّذِ یْ خَلَقَ
الْاَرْضَ فِ یْ یَوْمَیْنِ  وَتَجَْعَلُوْنَ لَہ’ اَنْدَاداًط ذٰلِ کَ رَبُّ
الْعَالَمَیْنَ 0
(پ٢٤ حٰم السجدہ ع٢آیت
٩)
کہہ دے کیا تم لوگ اس
خدا کو جھٹلاتے ہو جس نے دو دن میں یہ زمین پیدا کر دی۔اور تم خدا کے شریک قرار دیتے
ہو وہی ہے سارے جہاں کا  پروردگارٍ!
118  حضرت حمزہ بن عبدالمطلب آنحضرتؐ کے برادر رضاعی
بھی تھے ۔یعنی آنحضرتؐ
نے
حضرت ثوب
یہ کا دودھ بھی پیا تھا۔ثوبیہ حضرت حمزہ کو بھی
دودھ پلا چکی تھی ۔از مصنف )
119 (دیکھو خاتم المرسلین)
120 حضرت حمزہ کا خطاب
اسداللہ واسد رسولہ بھی تھا(دیکھو۔رحمة للعالمین جلددوم)
121 (ابو لہب نبی صلی
اللہ علیہ و سلم کا سب سے بڑا دشمن تھا جب آنحضرت تبلیغ کے لئے جاتے تو یہ پیچھے سے
پکارتا لوگوں یہ دیوانہ ہے اس کی باتوں میں نہ آنا)
122 نعیم بن عبداللہ
حضرت عمر ہی کے خاندان کے ایک معزز شخص تھے ( سیرت النبی )
123  حضرت خباب بن الارث بنی تمیم میں‌ سے تھے جاہلیت
میں‌ غلام بنا کر فروخت کر دئیے گئے تھے ام انمار نے خرید لیا تھا یہ ان دنوں ایمان
لائے تھے جب آنحضرت ارقم کے گھر میں‌ موجود تھے اور اس وقت تک صرف چھ سات شخص ایمان
لا چکے تھے آپؓ نے اسلام کی محبت میں‌ طرح‌ طرح کی تکلیفیں اٹھائی تھیں ان کو گرم
ریت پر لٹا کر سینے پر پتھر رکھ دئے جاتے تھے ان کی پشت ان صدمات سے برص کے سفید
داغوں کی طرح‌ بالکل سفید پڑ چکی تھی ( سیرت النبی )
124  حضرت عمر کے بہنوئی کا نام سعید بن زید تھا اور
بہن کا نام فاطمہ بنت خطاب ( مصنف )
125 فاطمہ نے قرآن کے اجزا
لا کر سامنے رکھ دئیے ،عمر نے اٹھا کر دیکھا تو یہ سورت تھی:۔
سَبَّحَ لِ لّہ مَافِ ی السِ ّمٰوٰتِ  وَالْاَرْضِ وَھُوَالْعَزِ یْزُالْحَکِ ی ْمُں(پ٢٧الحدید ع آیت١)
ترجمہ:۔آسمان و زمین میں
جو کچھ ہے خدا کی تسبیح پڑھتا ہے ۔اور خدا ہی غالب حکمت والا ہے ۔
 ایک ایک لفظ پران کا دل مرعوب ہوتا جاتا یہاں تک
کہ جب اس آیت پر پہنچے آمِ نُوْابِ اللّہِ  وَرَسُوْلِ ہ خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لے
آؤ تو بے اختیار پُکار اٹھے :۔
اَشْھَدُاَنْ لّااِ لٰہَ اِ لّااللّہُ وَاَشْھَدُاَنَّ
مُحَمّداًرَّسُوْلْ
میں گواہی دیتا ہوں کہ
خدا کے سوا کوئی معبود نہیں،اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔
126  ارقم کا مکان کوہِ صفا کی تلیٹی پرتھا۔اور رسول
اللہؐ
وہاں پناہ گزین تھے (سیرت النبی)
127 دیکھو سیرت النبی
صلی اللہ علیہ و سلم
128  حضرت عمر سے پہلے پچاس کے قریب آدمی ایمان لا چکے
تھے ،عرب کے مشہور بہادر سید الشہداء حضرت حمزہ بھی مسلمان ہو چکے تھے ،تاہم
مسلمان اپنے فرائض مذہبی ادا نہیں کر سکتے تھے ،کعبہ میں نماز ادا کرنا تو گویا ناممکن
ہی تھا لیکن حضرت عمر کے ایمان سے حالت بدل گئی ۔
انھوں نے علانیہ اسلام
کا اظہار کیا،کافروں نے شدت کے ساتھ مخالفت کی لیکن وہ ثابت قدم رہے ،یہاں تک کہ
مسلمانوں کو ساتھ لے جا کر نماز  ادا کی
۔ابن ہشام اس واقعہ کو عبد اللّہ بن مسعود کی زبانی اس طرح لکھتا ہے کہ عمر اسلام
لائے تو قریش سے لڑے ،یہاں تک کہ کعبے میں نماز پڑھی ،اور ان لوگوں کے ساتھ ہجوم نے
بھی پڑھی۔(مصنف)
129  فہر قریش اول کا نام تھا
130  حضرت عثمان بن عفان کے اسلام لانے کی خبر ان کے
چچا کو ہوئی تو وہ ان کو طرح طرح کی ایذائیں دینے لگا،اکثر اوقات کھجور کی صف میں
لپیٹ کر باندھ دیتا اور نیچے دھواں دیا کرتا تھا۔(طبری)
131  والّذین ھاجروا فی اللہ من بعد ماظلموا
لنبوئنّھم فی الدّنیا حسنة(ً پ١٤النّحل ع ٦ آیت ٤١)
اور وہ لوگ جنھوں نے اللّہ
کی راہ میں ہجرت کی اس کے بعدظلم ہوئے ہم انھیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے ۔
132  سب سے پہلے حضرت عثمان بن عفان اور ان کی زوجہ یعنی
آنحضرتؐ
کی بیٹی سیدہ رقیہ نے ہجرت اختیار کی،آنحضرتؐ نے فرمایا
حضرت لوط کے بعد عثمان پہلا شخص ہے جس نے راہِ  خدا میں ہجرت کی ہے ۔یہ پہلا قافلہ ١٢ مردوں اور
چار عورتوں پر مشتمل تھا،رات کی تاریکی میں مکے سے نکلے اور جدہ کی بندرگاہ سے جہاز
پر سوار ہو کر حبش کو چلے گئے تھے ،ان کے بعد اور بھی مسلمان جن میں ٨٣ مرد اور ١٨
عورتیں تھیں ،ان کے قافلہ سالار حضرت جعفر طیّار حضرت علی کے بھائی تھے (تاریخ
العمران)
133  عمرو بن العاص جو بعد میں مسلمان ہوئے اور فاتح
مصر کے نام سے مشہور ہیں،اس وقت کافر تھے اور مسلمانوں کے سخت دشمن تھے
سفارت نے جس میں عمرو بن
عاص اور عتبہ بن ربیعہ جیسے سرکردہ لوگ تھے ،نجاشی شاہِ  حبش کے درباریوں اور پادریوں کو جاتے ہی گانٹھ لیا
تھا کہ دربار میں ان کی طرف سے تائید ہی ہو گی۔ (دیکھو۔سیرت النبی)
134  کیونکہ بنی ہاشم اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر
قبیلے کی عصبیت سبب سے نبیؐ کا ساتھ نہیں چھوڑتے تھے (رحمة للعالمین)
135  اس معاہدہ کا ذکر طبری نے اور ابنِ  سعد نے تفصیل کیا ہے ،نبی کریمؐ کو قتل کے لیے حوالے کر دینے کا تذکرہ مواہب لدنیہ میں ہے (سیرت النبی)
136  ابُو طالب کے قصیدے کا پہلا شعر ہے
وابیض یستسقی الغمام بوجھہ
ثمال الیتامی عصمة للارامل
وہ گورا شخص جس کے چہرے
کی برکت سے بارانِ  رحمت کی دعا کی جاتی ہے
(جو)یتیموں کے لئیے پناہ اور دُکھیا عورتوں کو دکھ سے نجات دینے والا ہے
137 شعب ابی طالب پہاڑ
کے ایک درّے کا نام ہے جو خاندان بنو ہاشم کی موروثی ملکیت تھی
138  دیکھو خاتم المرسلین صفحہ120,122.123,سیرت النبیؐ
صفحہ ٢٢٨،سیرت خیرالبشرصفحہ ٧٢،سیرت رحمة للعالمین صفحہ ٥٣۔
139  بنی ہاشم کے بچے بھوک سے اس قدر رویا کرتے تھے کہ
ان کی آواز گھاٹی سے باہر سنائی دیتی۔(زادالمعاد)
140  صحابہ کی زبان سے مذکور ہے کہ طلحہ کے پتّے کھا
کھا کر بسر کرتے تھے سیرت النبی٢٢٨۔
141  ابوطالب قریش کے پاس آئے اور آنحضرتؐ کا فرمان بیان کیا۔ابوجہل نے کہا اس عہد نامے کی حفاظت کرتے ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ
ضائع ہو گیا ہو،پھر رؤسائے قریش کو ساتھ لیکر کعبہ میں پہنچے ،دیکھا تو دیمک اس
پارچے کو کھا چکی تھی اور عجیب بات یہ تھی کہ جہاں جہاں اللّہ محمّد کا لفظ لکھا تھا
صرف وہی جگہ باقی تھی(عادة العرب)
142 بعثتِ  نبوت کا دسواں سال تاریخِ  اسلامی میں عام الحزن کے نام سے مشہور ہے ،کیونکہ
آپؐ
کے دو ایسے رفیق و غمگسار اُٹھ گئے جن سے آپ کو بہت تقویت
ملتی تھی ،آنحضرتؐ
کی مشکلات پہلے سے بھی بڑھ گئیں،اور ایک اور سختی کا زمانہ
شروع ہوا(سیرت خیرالبشر)
143  حضرت خدیجہ نے رمضان ١٠نبوی میں وفات پائی ،آپ
کی عمر ٦٥ برس ہوئی۔مقام حجون میں دفن کی گئیں ،آنحضرتؐ
 خود
ان ک
ی قبر میں اترے اُس وقت تک نمازِ ِ جنازہ شروع
نہیں ہوئی تھی۔(سیرت النبیؐ)
144  طائف میں بڑے بڑے امراء اور اربابِ  اثر رہتے تھے عمیر کا خاندان رئیس القبائل تھا،یہ
تین بھائی تھے ،عبد یالیل،مسعود،حبیب
145  سیرت النبیؐ۔
146  کنایہ یہ تھا کہ ہم عرب کے اتنے بڑے رئیس ہیں
،خدا کو چاہیے تھا کہ پیغمبری ہمیں دیتا،چنانچہ حق تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے
:
وقالوالولانزّل ھٰذالقراٰن علی رجل مّن القریتین عظیم ۔۔پ٢٥،الزخرف،ع ٣ ،آیت ٣١)
وہ کہتے ہیں کہ قرآن کو
اترنا تھا،تو ان دو شہروں(مکہ اور طائف)میں سے کسی رئیسِ  اعظم پر اترنا تھا
147  یہ پوری تفصیل مواہبِ  لدنیہ بحوالہ موسیٰ بن عقبہ اور طبری وابن ہشام
میں ہے ؛(مصنف)
148  نخلہ طائف اور مکّے کے درمیان ایک مقام ہے ،آپ
نے طائف سے واپسی پر یہاں چند روز قیام فرمایا۔ (سیرت النبی)
149  طفیل ا بن عمرو یمن کے مشہور فرمانوی قبیلہ
دَوس کے ایک معزّز رکن اور نامی گرامی شاعر تھے ۔وہ کسی کام سے مکّے میں آئے انھیں
رسول اللہؐ
کے متعلق
کچھ بھ
ی معلوم نہ تھا۔اکابر قریش طفیل کے مرتبے کو جانتے
تھے ،وہ اُّن کے پاس آئے اور کہا اتنا خیال رکھنا کہ محمّدؐ
نام ایک شخص ہے اس سے نہ ملنا وہ بڑا جادوگر ہے ،اُس کا کلام باپ بیٹے میں
تفرقہ ڈال دیتا ہے ،طُفیل نے ان کے مشورے پر عمل کرنے کا تہیّہ کر لیا جب کبھی
باہر نکلتا۔کانوں میں روئی ٹھونس لیتا۔لیکن اتفاق سے آنحضرتؐ
قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے ، طفیل نے بھی باوجود کانوں میں روئی ہونے کے اُ س
آواز کو سنا۔دل میں خیال آیا کہ یہ تو حماقت ہے کہ کسی کی آواز نہ سنوں۔بُری بات ہو
گی تو نہ مانوں گا۔چنانچہ کانوں سے روئی نکالی اور اللہ کا کلام سننے لگا۔کلام کی
سچائی نے اثر کیا ۔اور آنحضرتؐ
 کی خدمت میں حاضر ہو کر
مسلمان ہو گیا۔اور چپ چاپ اپنے وطن چلا گیا،وہاں جا کر اپنے کُنبے کو مسلمان کیا،اور
قوم میں تبلیغ کرنے لگا۔۔ (خاتم المرسلین۔صفحہ ١٢٩۔١٣٠)
150  سوید ابن ثابت ارضِ ِ  یثرب کا مشہور و معروف شجاع اور عالم تھا اس کو امثال
لقمان کا ایک نسخہ ہاتھ آ گیا تھا،جس کو وہ کتاب آسمانی سمجھتا تھا،وہ ایک مرتبہ
حج کے لیے آیا،رسول
ؐ خدا اُس کے پاس تشریف لے گئے ،اس نے امثالِ  لقمان پڑھ کر سنائیں۔آپؐ نے فرمایا۔میرے پاس اس سے بہتر چیز ہے ۔یہ کہہ کر قرآن مجید کی چند آیات پڑھیں۔وہ
اسلام کا معتقد ہو کر  لوٹا اور یثرب کے لوگوں
پراس واقعہ کا اظہار کیا۔وہ انھی دنوں جنگِ ابعاث میں شہید ہو گیا۔روضة الانف میں
اور طبری میں یہ ذکر موجود ہے ۔(مصنف)
151  ارضِ  یثرب
میں اوس و خزرج نامی ایک خاندان یعنی قحطان کے دوقبیلے آباد تھے ۔مگر ایامِ ِ  جاہلیت میں دونوں میں جنگ رہا کرتی تھی۔قبیلہ
اَوس کو خزرج کے مقابلے میں شکست ہوئی تو اس کے عمائدین کے پاس خزرج کے مقابلے میں
انھیں اپنا حلیف بنانے کے لیے آئے اِ س سفارت میں ایاس بن ابن معاذ بھی تھے ۔رسول
اللّہؐ
کو اُن کا آنا
معلوم ہوا تو آپؐ ان کے پاس تشر
یف لے گئے ۔اور قرآن مجید
کی چند آیات ان کو سنائیں ۔ایاس نے ساتھیوں سے کہا۔تم جس غرض سے آئے ہو۔یہ کام تو
اس سے بھی بہتر ہے لیکن اس سفارت کے قافلہ سالار نے اس کے منہ پر کنکریاں مار کر کہا۔ہم
اس کام کے لیے نہیں آئے ۔اس کے بعد یہ سفارت وطن کو پلٹی۔ایاس آنحضرتؐ
 کی ہجرت سے پہلے انتقال
کر گیا۔لوگوں کا بیان ہے کہ مرتے وقت ایاس کی زبان پر تکبیر جاری تھی۔(سیرت النبیؐ)
152  حج کے زمانے میں عرب کے قبائل مکّے میں آئے تھے
۔اور آنحضرتؐ
اس موقع
پران کے ڈ
یروں پر جا جا کر تبلیغ فرماتے تھے سن ١٠ ع میں
ایسا ہی ہوا۔مقامِ  عقبہ کے پاس (جہاں اب
مسجد عقبہ ہے )قبیلہ خزرج کے چند اشخاص آپ کو نظر آئے ۔آپ نے ان کو دعوتِ  اسلام دی۔ان لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور
کہا دیکھو یہود اس اولیّت میں ہم سے بازی نہ لے جائیں ۔یہ کہہ کر سب نے اسلام قبول
کر لیا۔یہ چھ شخص تھے ۔دوسرے سال بارہ اشخاص آئے اور بیعت کی ۔اور خواہش کی کہ کوئی
معلّم ہمارے ساتھ ارکانِ  اسلام سکھانے کے لیے
دیا جائے ۔آپؐ
نے مصعب
بن عم
یر کو ان کے ساتھ کردیا۔مصعب ہاشم بن عبدمناف
کے پوتے اور سابقین اسلام میں تھے ۔مصعب کی کوشش سے یثرب میں اسلام پھیلنے لگا
۔اگلے سال بہتر٧٢ آدمیوں نے مکّے اور مقامِ  منا میں بیعت کی ۔(سیرت النبی)
153  اہلِ  یثرب
نے یہودیوں سے سن رکھا تھا کہ ایک موعود  نبیؐ
کے آنے کا زمانہ قریب ہے یہودی تورات عیسائی انجیل کی پیشگوئیوں کی بنا پر موعود
نبیؐ کے مُدتوں سے منتظر تھے (دیکھو طبری)
154  حضرت صدیق اور حضرت علی کے علاوہ چند ایسے لوگ
مکہ میں باقی رہ گئے تھے جو مفلسی کے ہاتھوں مجبور تھے اور مدتوں ہجرت نہ کر سکے یہ
آیت انہی کی شان میں ہے
والمستضعفین من الرجال وا لنساء————
ترجمہ:۔ کمزور مرد،
عورتیں اور بچے یہ کہتے ہیں کہ اے خدا ہم کو اس شہر سے نکال کہ یہاں کے لوگ ظالم ہیں
155  تدبیر قتل پر غور کرنے کے لیے دار الندوہ میں
اجلاس خفیہ کا اعلان کیا گیا، دارالندوہ کو قصی ابن کلاب نے قائم کیا تھا، اس
اجلاس میں نجد کا ایک تجربہ کار بوڑھا شیطان بھی آ کر شامل ہو گیا تھا ﴿رحمة
اللعالمین﴾
156  حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مصر سے ہجرت کی اور
حضرت داؤد نے بھی ساؤل بادشاہ کے ظلم کے سبب سے ہجرت کی
ـ دیکھو
کتاب سموائیل
ـ 13،13،14 بحوالہ رحمة اللعالمین ـ
157  اس موقع پر توشہ دان کو باندھنے کے لیے کوئی چیز
نہ ملتی تھی۔ حضرت ابو بکر صدیق کی بیٹی اسماء نے فوراً اپنی کمر کی پیٹی اتاری
اور پھاڑ کر دو حصے کر لیے ۔ ایک سے ناشتہ دان کو باندھا ۔ حضرت رسالت اسماء کی اس
مستعدی پر خوش ہوئے اور فرمایا کہ اسماء خدا جنت میں تمہیں دو پیٹیاں عطا کرے گا۔
پیٹی کو عرب میں نطق کہتے ہیں۔ چنانچہ آنحضرت کے ارشاد فیض بنیاد کے سبب اسماء کا
لقب ذات النطاقین ہو گیا ۔ یعنی دو پیٹیوں والی۔ (ابن سعد ، ابن ہشام )
158  یہ غار مکہ سے تین میل جانب جنوب ہے ۔ پہاڑ کی
چوٹی پر تقریبا ایک میل بلند ہے ۔ چڑھائی بہت ہی سخت ہے یہاں سے سمندر دکھائی دیتا
ہے ۔ (مصنف )
159  حضرت صدیق اکبر غار میں داخل ہوئے ۔ فرش صاف کیا
۔ جہاں کہیں سوراخ تھے اور سانپ بچھو کا خطرہ تھا۔ آپ نے اپنی عبا کو پھاڑا اور ان
سوراخوں کو بند کر دیا۔ (دیکھو سیرت ابن ہشام ، رحمۃ للعالمین )
160  ظالموں نے حضرت علی کو پکڑا اور حرم میں لے جا
کر تھوڑی دیر محبوس رکھا ۔ پھر چھوڑ دیا ۔۔ (سیرت النبی )
161 خدا پاک نے حضرت
ابو بکر صدیق کے اس خلوص کا اعتراف قرآن مجید میں بھی فرمایا ہے ۔ گویا جس معیت
الہی میں نبی واصل تھا۔ اس میں ابو بکر کو بھی شامل کر لیا۔ سورہ توبہ میں ہے
الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ اذ اخرجہ الذین کفروا ثانی
اثنین اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا۔ (پارہ ۔۔ 10 ، سورہ
التوبہ
، ع ۔ 6۔ آیت ۔۔ 40
اگر تم اس کی مدد نہ
کرو تو یقیناً اللہ نے اس کی مدد کی جب اسے کافروں نے نکال دیا تھا اس حال میں کہ
وہ دو میں سے کا دوسرا تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے ۔ اور جب اس نے اپنے رفیق سے کہا
غمگین نہ ہو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔
162  عامر بن فہیرہ صدیق اکبر کا غلام تھا۔ حضرت صدیق
چلتے ہوئے اسے ہدایات دے آئے تھے ۔ (مصنف )
163  اس ناقہ کا نام قصویٰ تھا۔ اور آنحضرت نے اسے ابو
بکر سے بقیمت خریدا تھا۔
164  عبداللہ بن اریقط کو کچھ اجرت پر رہبری کے لیے مقرر
کیا گیا تھا۔
165  آنحضرت نے آرام فرمایا تو حضرت صدیق اکبر تلاش
میں نکلے کہ کہیں سے کچھ کھانے کو مل جائے تو لائیں پاس ہی ایک چرواہا بکریاں چرا
رہا تھا۔ اس سے کہا بکری کا تھن صاف کر دے ۔ پھر اس کے ہاتھ صاف کرائے اور دودھ
دوہایا ۔ برتن کے منہ پر کپڑا لپیٹ دیا کہ گرد نہ پڑ جائے ۔۔ (سیرت النبی )
166  گھوڑے نے ٹھوکر کھائی تو سراقہ نے ترکش سے فال
دیکھنے کے لیے تیر نکالے کہ حملہ کرنا چاہیے یا نہیں۔ جواب میں نکلا نہیں ۔ مگر اس
نے تعاقب نہیں چھوڑا۔ آخر ایسا ہوا کہ گھوڑا رانوں تک دھنس گیا ۔ (یہ مفصل واقعہ
صحیح بخاری سے مصنف رحمۃ للعالمین نے درج کیا ہے
167  یہ تحریر عامر بن فہیرہ نے چمڑے پر لکھی تھی۔
لکھنے کا سامان حضرت ابو بکر کے ساتھ تھا۔ سراقہ بعد میں اسلام لائے اور جب ایران
فتح ہوا اور مال غنیمت میں کسریٰ کے زیورات بھی آئے تو حضرت عمر نے دیکھا کہ سراقہ
کے حصہ میں کسریٰ کے کنگن تھے ۔
168  آپ کی ہجرت کے مقامات یہ تھے ۔ خیمہ ام معبد۔
اسفل احج۔ خرار ۔ ثینۃ المرہ ۔ مدلجہ ۔ مدلجہ مجاج ۔ مرحج مجاج۔ مرحج ذی العضوین ۔
بطن ذی کشد۔ جداجد۔ اجرد ۔ ذی سلم ۔ عبابید۔ فاجہ ۔ عرج ثینۃ العائر ۔ جشجاثہ ۔
قبا۔ مدینہ ۔(خاتم المرسلین۔)
169  یہ واقعہ علامہ شبلی نے نہ جانے کیوں چھوڑ دیا۔
رحمۃ للعالمین میں تفصیل سے مذکور ہے ۔ بریدہ اسلمی اپنی قوم کا سردار تھا۔ اسی
انعام کے حاصل کرنے کے لیے ستر آدمی لے کر تلاش میں نکلا تھا۔ مگر آنحضرت سے گفتگو
ہوتے ہی ایمان لے آیا تھا۔
170  دیکھو رحمۃ للعالمین
171  مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلے پر جو بالائی
آباد ہے اس کو عالیہ یا قبا کہتے ہیں ۔ یہاں انصار کے بہت سے خاندان آباد تھے ۔ یہ
فخر ان کی قسمت میں تھا کہ سب سے پہلے رسول خدا نے انہی کی مہمانی قبول کی ۔ اکابر
صحابہ یہاں پہلے ہی سے مہمان تھے ۔ (مصنف )
172  صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت نے قبا میں
14 دن قیام فرمایا تھا۔ بعض ارباب سیر نے تین دن اور بعض نے چار دن لکھا ہے مگر صحیح
بخاری کی روایت قرینِ  قیاس ہے ۔
173  یہی مسجد ہے جس کی شان میں قرآن مجید فرماتا ہے
:
لمسجد اسس علی التقویٰ من اول یوم احق ان تقوم فیہ۔ فیہ
رجال یحبون ان یتطھروا۔ واللہ یحب المتطھرین
۔ (پارہ ۔ 11۔ التوبۃ رکوع 13۔ آیت 108
وہ مسجد جس کی بنیاد
پہلے ہی دن پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ تم اس میں
کھڑے ہو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جن کو پاکیزگی بہت پسند ہے اور خدا پاکیزہ رہنے والوں
کو دوست رکھتا ہے ۔
174  سر راہ بنی سالم کے محلے میں نماز جمعہ ادا
فرمائی ۔۔(سیرت ابن ہشام(
175  بنی نجار آنحضرت کے دادا کے رشتہ دار تھے ان کو
نبی کے آنے کی سب سے زیادہ مسرت تھی۔ (العادۃ العرب )
176  مدینے کی معصوم لڑکیاں گھروں میں گا رہی تھیں۔
اشرق البدر علینا , من ثنیات الوداع , وجبت شکر علینا
, ما دعی للہ داع
چاند نے طلوع کیا , کوہ
وداع کی گھاٹیوں سے , ہم پر شکر واجب ہے , جب تک دعا مانگنے والے دعا مانگیں
177  راہ میں ننھی لڑکیاں دف بجا کر گاتی تھیں:
نحن جوارین بنی النجار , یا حبذا محمدا من جار
ہم نجار کے خاندان کی
لڑکیاں ہیں , محمد کتنے پسندیدہ ہمسایہ ہیں
178  ان لڑکوں کا نام سہل بن عمرو سہیل بن عمرو تھا۔
معاذ بن عفرا کی تولیت میں تھے ۔ (خاتم النبیین)
179  عبداللہ بن ابی مدینے کا ایک با اثر شخص تھا۔
اس نے تاجپوشی کے لیے سونے کا تاج بنوا رکھا تھا۔ لیکن جب اوس و خزرج کے قبائل
مسلمان ہو گئے تو تاجداری کا خیال ہی جاتا رہا۔ اگرچہ رسول اللہ روح و جسم دونوں
پر حاکم تھے ۔ لیکن آپ کی زندگی فقر و فاقہ کی زندگی تھی۔ ابن ابی کے ارادے دل ہی
دل میں رہ گئے تھے ۔ اس لیے وہ اور اس کے چند ساتھی اسلام کے مخالف تھے اور عمر
بھر مخالف رہے اور منافقین کہلائے ۔
180  آنحضرت نے مدینے میں تشریف لاتے ہی یہودیوں اور
مسلمانوں میں ایک معاہدہ کرایا تھا۔ (دیکھو ابن ہشام )
181  ان دنوں مدینہ میں یہود اور منافقین کے گروہ
مسلمانوں کو امن و امان سے رہتے دیکھ کر حسد سے اندھے ہو رہے تھے ۔ اور آئے دن
سازشوں میں مصروف رہتے تھے ۔ مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو غارت کردینے کا تہیہ کر
رکھا تھا۔ کرزا ابن جابر مدینے کی دیواروں تک غارت کرتا تھا۔ (سیرت النبی )
182  اذن للذین یقاتلون بانھم ظلمو وان
اللہ علی نصرھم لقدیر الذین اخرجوا من دیارہم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا اللہ ولو
لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع و بیع و صلوت و مسجد یذکر فیھا اسم اللہ
کثیرا و لینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز
۔( پ : 17، الحج، ع : 6، آیت : 40
ان کو لڑنے کی اجازت دی
جاتی ہے جن سے لڑائی کی جاتی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور تحقیق اللہ ان
کی مدد کرنے پر قادر ہے وہ لوگ جو ناحق اپنے گھروں سے نکالے گئے اس لیے کہ انہوں نے
پروردگار کو اپنا خدا کہا ۔ اور اگر بعض لوگوں پر سے بعض کو اللہ دور نہ کرتا۔ تو
البتہ گرا دیئے جاتے نرسا کے صومعے درویشوں کے عبادت خانے یہود اور نصاریٰ کے اور
مسجدیں کہ جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے اور اللہ اپنے مدد کرنے والوں کی
مدد کرتا ہے اور اللہ ہی البتہ زور آور اور غالب ہے ۔
183  مال و اسباب منافع تجارت کو لطیمہ کہتے ہیں
184  ابو لہب بہت بوڑھا تھا اس نے اپنی بجائے ایک
آدمی روپیہ دے کر مقرر کر دیا تھا (العادۃ العرب)
185 ابو سفیان اپنے تجارتی
قافلے کو لے کر مکہ پہنچ گیا تو اس نے ایک قاصد ابو جہل کے پاس بھیجا کہ ہم سمالت
ہیں۔ تم پھر واپس پلٹ آؤ۔ پھر پورے جنگی سامان کے ساتھ چڑھائی کرینگے ۔ ابو جہل نے
قاصد کے ذریعے ابو سفیان کو کہلا بھیجا کہ اب پلٹنا ممکن نہیں۔ اس طرح جوش ٹھنڈا
ہو جائے گا۔ لہذٰا تم بھی آ کر حملے میں شامل ہو جاؤ۔ ابو سفیان نے پیغام پایا تو
چند سوار لے کر چلا اور آ کر قریش کے لشکر میں شامل ہو گیا (تاریخ العمران)
متن کا ماخذ:
(آن لائن  اشاعت ۔ القلم ریسرچ لائبریری)